Skip to main content

جامعہ کشمیر: الحاق کالجز کے امتحانات بروقت ہونگے طلباء امتحانات کے لیے تیار رہیں۔

کھکھہ راجپوت ٹائمز

مظفرآباد :جامعہ کشمیر  سے الحاق شدہ کالجز  کے امتحانات بروقت ہونگے طلباء امتحانات کے لیے تیار رہیں۔امتحانی طریقہ کار میں تبدیلی ممکن نہیں، طلباء مزید وقت ضائع کرنے کے بجائے 14 اکتوبر سے شروع امتحان کی تیاری  کریں۔یونیورسٹی آف آزاد جموں کشمیر  کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسوسی ایٹ ڈگری کامرس  اور بی کام سالانہ امتحان 23 ستمبر 2020 اور بی ایس سی ،بی اے کے امتحان  14 اکتوبر 2020 سے آزاد جموں کشمیر بھر میں یونیورسٹی آف آزاد جموں کشمیر کی طرف سے قائم کردہ امتحانی مراکز میں منعقد ہورہے ہیں۔ یونیورسٹی سے 131 الحاق کالجز میں سے ماسوائے ایک کالج کے کسی بھی کالج کے طلباء کی طرف سے  کورسز مکمل نہ ہونے کی شکایت موصول نہیں ہوئی اور جن کا
کورس کالج مکمل نہیں کروا سکا تو وہ متعلقہ کالج سے رابطہ کر کے 14 اکتوبر سے پہلے کورس مکمل کریں۔یونیورسٹی کی زمہ داری امتحان لینا ہے نہ کورس مکمل کروانا اسلیے یونیورسٹی کے خلاف احتجاج کا کوئی کی جواز نہیں ہے 



Comments

Popular posts from this blog

کھاوڑہ کو "کھاوڑہ" کیوں کہا جاتا ہے اور کھکھواڑی زبان کہاں بولی جاتی ہے

 کھکھہ راجپوت ٹائمز: کھاوڑہ لفظ کھکھہ واڑہ وچآ نکلیا جس تے معنی کھکھہ ذی جاگیرا ذے،  کھکھواڑہ سیاں لفظ صوتی تغیر اور وقتا نال کھاوڑہ ہوئیا۔ کھکھواڑہ وچ کھکھیاں ذی ایک بہت بڑی تعداد آباد ای اور جہڑی زبان کھکھے بولدے او کھکھواڑی کہلانزی جس تا لہجہ ہندکو  ذے پہاڑی کولا مختلف آہ۔ اکثر لوک اسا"تیا میا" الی زبان سیاں جانڑدے اور اسا "تیا میا" الی زبان اختے۔  ائیکلاں لوک اپنڑے بچیاں اپنڑی مادی زبان نہے بولنڑ دینزے اور کئی لوک ایسے وی تھے جہڑے اپنڑی مادی زبان  بولے وچ توہین اور شرمندگی محسوس کردے ۔  آس لوک اپنڑے بچیاں نال کھکھواڑی ذی جائی اردو بولدیاں اور انھاں  اپنڑی زبان نہے بولنڑ دینزے اں۔ اے غل بہت ہی غلط ای، کیاں کہ اس تی ایک وجہ اے ای کہ اس نال آس اپنڑی زبانا دن بدن ختم کررہیاں تہ دویا اے آہ کہ جہڑی قوم اپنڑی مادری زبان بولے وچ جھجک شرمندگی محسوس کرا او دنیا ذی غلام ترین اور بیوقوف ترین قوم کہلانزی ۔ اردو وی آساں ذی اپنڑی زبان ای ،اساں ذی شناخت اور پہچانڑ ای لیکنڑ مادی زبان اردو کولا آساں ذی پہلی پہچانڑ ای ،اردو نصابا ذا حصہ ای اور آس سیکھی وی کہندیاں لیک...

جموں کشمیر کا رقبہ

کیا آپ جانتے ہیں ریاست جموں کشمیر تقسیم ہونے سے پہلے تین صوبوں پر مشتمل تھی اور ریاست کا کل رقبہ 85806مربع میل تھا۔ ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبت ہا کا کل رقبہ 85806مربع میل ہے جو تقسیم ہونے سے پہلے تین صوبوں لداخ گلگت، جموں اور کشمیر پر مشتمل تھی۔  لداخ و گلگت رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ تھا جبکہ کشمیر ابادی کے لحاظ سے ریاست کا بڑا صوبہ تھا۔صوبہ کشمیر کا رقبہ 8539مربع میل   صوبہ جموں کا 12378 مربع میل جبکہ صوبہ  لداخ و گلگت کا رقبہ 64889 مربع میل تھا

سٹوڈینٹ ایکشن کمیٹی جامعہ کشمیر کا دھرنے کا اعلان

کھکھہ راجپوت ٹائمز مظفرآباد : سٹوڈینٹ ایکشن کمیٹی جامعہ کشمیر نے 15جولائی کو دھرنے کی کال دے دی۔دھرنے کا بنیادی مقصد موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے طلباء کو ریلیف دینے اور فیسوں میں کمی کا انتظامیہ سے مطالبہ ہے۔ پاکستان زیرِ انتظام جموں کشمیر (آزاد جموں کشمیر) کی تمام جامعات کے طلباء  اور سول سوسائٹی کی طرف سے  دھرنے میں شرکت اور حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ دھرنا غیر معینہ مدت تک سٹی کیمپس گیٹ کے سامنے کیا جائے گا۔