Skip to main content

دریا بجاؤ کمیٹی کی احتجاجی ریلی

کھکھہ راجپوت ٹائمز:

مظفرآباد:دریا بچاؤ کمیٹی کی طرف سے دریائے جہلم کا رخ موڑنے کے خلاف احتجاجی ریلی!

احتجاجی مظاہرے میں وکلاء،تاجران، طلبہ تنظیموں، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی نے شرکت کی۔

مظاہرے سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دریائے نیلم کے بعد دریائے جہلم کا رخ موڑنا مظفرآباد کی تباہی ہے۔پاکستانی وزیراعظم کی طرف سے بنائے گئے  شمائل کمیشن میں آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر حکومت کا مؤقف درج ہے جس میں دریاؤں کے رخ کو موڑنے کو  ناقابل قبول تحریر کیا گیا ہے۔ واپڈا نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی طرح  کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں آزاد حکومت کے ساتھ کوئی بھی  معاہدہ نہ کر کے ریاستی شہریوں کو ان کی اوقات دکھائی ہے۔

دریاؤں کا رخ موڑنا غیر قانونی، غیر انسانی فعل ہے۔ پہلے ہی ایک دریا کو قتل کیا جا چکا ہے اب دوسرے دریا کا رخ موڑنا مستقبل میں شدید ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بنے گا۔ دریاؤں کا رخ موڑنا اپنی نسلوں کو قتل کرنے کا مترادف ہے۔ مستقبل قریب میں سرنگوں کی وجہ سے خطے میں پانی کا شدید بحران پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بننے کے بعد دریائے جہلم کا رخ تبدیل ہونے کے باعث خطے میں بارشوں میں بھی کمی ہونے کا خطرہ ہے۔
چھوٹے ڈیم بنا کر بجلی کی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے مگر حکومت پاکستان ،چائنہ اور واپڈا ماحول و انسانی دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہو کر خطے کی چھ لاکھ سے زائد افراد کے مستقبل کو متاثر کررہے ہیں۔


او ظالم اور بے حس لوگو
 شہر سلطاں کو بسنے دو
نیلم جہلم کو بہنے دو

اپنی نسلوں کو جینے دو
ہم کو بھی زندہ رہنے دو
نیلم جہلم کو بہنے دو

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

کھاوڑہ کو "کھاوڑہ" کیوں کہا جاتا ہے اور کھکھواڑی زبان کہاں بولی جاتی ہے

 کھکھہ راجپوت ٹائمز: کھاوڑہ لفظ کھکھہ واڑہ وچآ نکلیا جس تے معنی کھکھہ ذی جاگیرا ذے،  کھکھواڑہ سیاں لفظ صوتی تغیر اور وقتا نال کھاوڑہ ہوئیا۔ کھکھواڑہ وچ کھکھیاں ذی ایک بہت بڑی تعداد آباد ای اور جہڑی زبان کھکھے بولدے او کھکھواڑی کہلانزی جس تا لہجہ ہندکو  ذے پہاڑی کولا مختلف آہ۔ اکثر لوک اسا"تیا میا" الی زبان سیاں جانڑدے اور اسا "تیا میا" الی زبان اختے۔  ائیکلاں لوک اپنڑے بچیاں اپنڑی مادی زبان نہے بولنڑ دینزے اور کئی لوک ایسے وی تھے جہڑے اپنڑی مادی زبان  بولے وچ توہین اور شرمندگی محسوس کردے ۔  آس لوک اپنڑے بچیاں نال کھکھواڑی ذی جائی اردو بولدیاں اور انھاں  اپنڑی زبان نہے بولنڑ دینزے اں۔ اے غل بہت ہی غلط ای، کیاں کہ اس تی ایک وجہ اے ای کہ اس نال آس اپنڑی زبانا دن بدن ختم کررہیاں تہ دویا اے آہ کہ جہڑی قوم اپنڑی مادری زبان بولے وچ جھجک شرمندگی محسوس کرا او دنیا ذی غلام ترین اور بیوقوف ترین قوم کہلانزی ۔ اردو وی آساں ذی اپنڑی زبان ای ،اساں ذی شناخت اور پہچانڑ ای لیکنڑ مادی زبان اردو کولا آساں ذی پہلی پہچانڑ ای ،اردو نصابا ذا حصہ ای اور آس سیکھی وی کہندیاں لیک...

جموں کشمیر کا رقبہ

کیا آپ جانتے ہیں ریاست جموں کشمیر تقسیم ہونے سے پہلے تین صوبوں پر مشتمل تھی اور ریاست کا کل رقبہ 85806مربع میل تھا۔ ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبت ہا کا کل رقبہ 85806مربع میل ہے جو تقسیم ہونے سے پہلے تین صوبوں لداخ گلگت، جموں اور کشمیر پر مشتمل تھی۔  لداخ و گلگت رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ تھا جبکہ کشمیر ابادی کے لحاظ سے ریاست کا بڑا صوبہ تھا۔صوبہ کشمیر کا رقبہ 8539مربع میل   صوبہ جموں کا 12378 مربع میل جبکہ صوبہ  لداخ و گلگت کا رقبہ 64889 مربع میل تھا

تنویر احمد کون ہیں اور انھیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟؟؟؟؟

 دا کھکھہ راجپوت ٹائمز تنویر احمد کون ہیں اور انھیں کیوں گرفتار کیا گیا؟ تحریر:راجہ شہریار طاہر  تنویر احمد کا تعلق سہنسہ کوٹلی سے ہے اور تنویر احمد برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔تنویر احمد ایک صحافی، ریسرچر، لکھاری،سوشل ایکٹویسٹ، آزادی پسند اور محب الوطن (جموں کشمیر) ریاستی باشندے ہیں۔تنویر احمد اپنی ذات میں ایک ادارہ اور تنظیم ہیں۔تنویر احمد کی پیدائش برطانیہ میں ہوئی اور ان  کا سارا خاندان برطانیہ میں آباد ہے۔ تنویر احمد نے اپنی تعلیم برطانیہ سے حاصل کی اور برطانیہ میں ایک بنک میں نوکری کرنی شروع کردی لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد بنک سے نوکری ترک کرکے بی بی سی کے ساتھ منسلک ہوگئے۔  بی بی سی کے لیے تنویر احمد افغانستان اور عراق میں بھی کام کرتے رہے ہیں۔امریکہ عراق جنگ کے دوران وہ  عراق سے  بی بی سی کے لیے رپورٹنگ کرتے رہے۔اس دوران تنویر احمد نے کچھ حقائق سامنے لائے جن کو بی بی سی نے نشر کرنے سے انکار کردیا جس پر تنویر احمد نے بی بی سی کو  خیرباد کہہ دیا تھا۔تنویر احمد چند سال قبل اپنے وطن جموں کشمیر لوٹ آئے اور اس کے بعد انہوں ہمیشہ کے لیے ریاست جموں کشمیر میں ...